رحم اے غمِ جاناں بات آ گئی یاں تک
دستِ گردشِ دوراں اور مِرے گریباں تک
کون سر بکف ہو گا، جشنِ دار کیا ہو گا
ذوقِ سر فروشی ہے ایک دشمنِ جاں تک
ہم صفیر پھر کوئی حادثہ ہوا شاید
ہمنشیں بہاروں نے کتنے آشیاں پھونکے
ہم کر ہی کیا لیتے، سو گئے نگہباں تک
اک ہمیں لگائیں گے خار و خس کو سینے سے
ورنہ سب چمن میں ہیں موسمِ بہاراں تک
میرے دستِ وحشت کو آج روک لو ورنہ
فاصلہ بہت کم ہے ہاتھ سے گریباں تک
ہے شمیمؔ ازل ہی سے سلسلہ محبت کا
حلقۂ سلاسل سے گیسوئے پریشاں تک
شمیم جے پوری
No comments:
Post a Comment