سپنے رم جھم کی صورت میں جب آ گئے
زندگانی کو رنگوں میں نہلا گئے
تلخ بولوں سے مانوس تھے اس قدر
حرفِ شِیریں سے کان چندھیا گئے
چند لمحے تغیر کے کیا قہر تھے
حادثوں کے جزیرے میں آباد ہوں
ایک کروٹ میں سو زلزلے آ گئے
جیسے اندر اِک آتش فِشاں پھٹ گیا
بھیڑیئے جیسے میری انا کھا گئے
جیسے سارے بدن کی نسیں تن گئیں
کیسے خطرے فضاؤں میں منڈلا گئے
فارغؔ اب سانس لینا بھی دوبھر ہوا
کس قیامت کے یہ مرحلے آ گئے
فارغ بخاری
No comments:
Post a Comment