صفحات

Friday, 13 November 2015

اگرچہ پہرے ہماری اڑان پر ہوں گے

اگرچہ پہرے ہماری اڑان پر ہوں گے
اڑے بغیر بھی ہم آسمان پر ہوں گے
میں ٹھیک ٹھیک نشانے پہ ان کے خود پہنچا
مجھے خبر تھی شکاری مچان پر ہوں گے
ہر ایک زخم سے جب پٹیاں ہٹاؤں گا
بہت سے نام لہو کی زبان پر ہوں گے
تم اپنا حال بتاؤ نہ قیمتوں کی طرح
میں دردمند ہوں، تاجر دُکان پر ہوں گے
کہاں سے لاؤں گواہی، کدھر سے تیر آیا
کسی کے ہاتھ تو آخر کمان پر ہوں گے
خبر نہ تھی کہ محبت بھی ایسا کانٹا ہے
چبھے کا روح میں، چھالے زبان پر ہوں گے
مظفرؔ ان کی حقیقت سے خوب واقف ہوں
جو اعتراض مِری داستان پر ہوں گے

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment