اگرچہ پہرے ہماری اڑان پر ہوں گے
اڑے بغیر بھی ہم آسمان پر ہوں گے
میں ٹھیک ٹھیک نشانے پہ ان کے خود پہنچا
مجھے خبر تھی شکاری مچان پر ہوں گے
ہر ایک زخم سے جب پٹیاں ہٹاؤں گا
تم اپنا حال بتاؤ نہ قیمتوں کی طرح
میں دردمند ہوں، تاجر دُکان پر ہوں گے
کہاں سے لاؤں گواہی، کدھر سے تیر آیا
کسی کے ہاتھ تو آخر کمان پر ہوں گے
خبر نہ تھی کہ محبت بھی ایسا کانٹا ہے
چبھے کا روح میں، چھالے زبان پر ہوں گے
مظفرؔ ان کی حقیقت سے خوب واقف ہوں
جو اعتراض مِری داستان پر ہوں گے
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment