سر اس لیے اونچا ہے کہ قد اس کا بڑا ہے
قد اس لیے اونچا ہے کہ لاشوں پہ کھڑا ہے
ہنستا بھی ہے تو خون ٹپکتا ہے دہن سے
ہیرا ہے مگر ظلم کے ماتھے پہ جڑا ہے
انصاف کے ہاتھوں میں ہے قانون کی زنجیر
یہ کون بہاروں کا طلب گار ہوا تھا
یہ کس کا بدن سُوکھ کے سُولی سے جھڑا ہے
گاتا ہے یہ کیوں اپنی بڑائی کے ترانے
انسان بڑا ہے، تو خدا اس سے بڑا ہے
میں اپنی محبت کو نہیں ڈوبنے دوں گا
ہر چند مِری ناؤ بھی مٹی کا گھڑا ہے
وہ جیت کے بھی ہار گیا جنگ مظفرؔ
مانگی ہوئی تلوار سے جو شخص لڑا ہے
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment