صفحات

Friday, 13 November 2015

آگ میں بیٹھ کے پھولوں کی نمائش کرنا

آگ میں بیٹھ کے پھولوں کی نمائش کرنا
اب ہنر ٹھہرا ہے اعلانیہ سازش کرنا
چاہے قانون کے ہاتھ اپنے گریبان پہ ہوں
پیشہ عدل ہے، مجرم کی سفارش کرنا
پگڑیاں بخش کے سر کاٹ لیے جاتے ہیں
قتل کر دینے کا مطلب ہے نوازش کرنا
زندگی، ایک بھکارن سی نظر آتی ہے
مجھ کو اچھا نہیں لگتا، کوئ خواہش کرنا
کیسے جھک جاؤں تِری سنگدلی کے آگے
میرا مسلک نہیں پتھر کی پرستش کرنا
آؤ! پھر دونوں بغاوت کے علم لہرائیں
حکمِ دنیا ہے کہ ملنے کی نہ کوشش کرنا
عاجزی عام مظفرؔ ہمیں اب کرنی ہے
جابروں کو بھی سکھانا ہے، گزارش کرنا

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment