صفحات

Friday, 13 November 2015

ہاتھ انصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹوں

ہاتھ انصاف کے چوروں کا بھی کیا میں کاٹوں
جرم قانون کرے، اور سزا میں کاٹوں
دودھ کی نہر شہنشاہ محل میں لے جائے
تیشہ خوں سے پہاڑوں کا گلا میں کاٹوں
تیرے ہاتھوں میں ہے تلوار، مِرے پاس قلم
بول، سر ظلم کا تُو کاٹے گا، یا میں کاٹوں
شہر میں آ کے بھی وحشت مجھے بھولی تو نہیں
حجرۂ دشت سے کیوں نام پتا میں کاٹوں
کھلے عام ماحول پہ وہ حبس کو مامور کرے
سانس کی دھار سے زنجیرِ ہوا میں کاٹوں
اب تو بندے بھی خدا کے بندوں کی تقدیر لکھیں
دے وہ طاقت مجھے، ان سب کا لکھا میں کاٹوں
چھاؤں تو اس کو مظفرؔ نہیں اچھی لگتی
کہتا مجھ سے ہے کہ یہ پیڑ گھنا میں کاٹوں

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment