آگ میں بیٹھ کے پھولوں کی نمائش کرنا
اب ہنر ٹھہرا ہے اعلانیہ سازش کرنا
چاہے قانون کے ہاتھ اپنے گریبان پہ ہوں
پیشہ عدل ہے، مجرم کی سفارش کرنا
پگڑیاں بخش کے سر کاٹ لیے جاتے ہیں
زندگی، ایک بھکارن سی نظر آتی ہے
مجھ کو اچھا نہیں لگتا، کوئ خواہش کرنا
کیسے جھک جاؤں تِری سنگدلی کے آگے
میرا مسلک نہیں پتھر کی پرستش کرنا
آؤ! پھر دونوں بغاوت کے علم لہرائیں
حکمِ دنیا ہے کہ ملنے کی نہ کوشش کرنا
عاجزی عام مظفرؔ ہمیں اب کرنی ہے
جابروں کو بھی سکھانا ہے، گزارش کرنا
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment