یہ ماجرا تھا کسی واردات سے پہلے
تمام لوگ تھے خوابیدہ رات سے پہلے
تھی زندگی کی تمنا کہ موت کی خواہش
ہر ایک شخص تھا گم سم نجات سے پہلے
چھپی ہوئی تھی کوئی بات موت میں شاید
سکون دشت میں حاصل نہ شہر میں ہی پناہ
چھپاؤں خود کو کہاں، حادثات سے پہلے
حدودِ دشت میں پھر گنگنا رہا تھا کون
کوئی نہ آیا تھا جب میری ذات سے پہلے
شاہد کلیم
No comments:
Post a Comment