Friday, 6 November 2015

یہ ماجرا تھا کسی واردات سے پہلے

یہ ماجرا تھا کسی واردات سے پہلے
تمام لوگ تھے خوابیدہ رات سے پہلے
تھی زندگی کی تمنا کہ موت کی خواہش
ہر ایک شخص تھا گم سم نجات سے پہلے
چھپی ہوئی تھی کوئی بات موت میں شاید
وہ زہر پی گیا آبِ حیات سے پہلے
سکون دشت میں حاصل نہ شہر میں ہی پناہ
چھپاؤں خود کو کہاں، حادثات سے پہلے
حدودِ دشت میں پھر گنگنا رہا تھا کون
کوئی نہ آیا تھا جب میری ذات سے پہلے

شاہد کلیم

No comments:

Post a Comment