صفحات

Sunday, 15 November 2015

چاہت ہو کہ نفرت بھرپور ہو تو یوں ہو

چاہت ہو کہ نفرت بھرپور ہو تو یوں ہو
نزدیک تھے تو یوں تھے، اب دور ہو تو یوں ہوں
آئے ترنگ میں اور خود کو نثار کر دے
جانِ حزیں کسی دن مسرور ہو تو یوں ہوں
ہو پا برہنہ جب وہ، تلووں کے نیچے مچلے
دل کرچیوں کی صورت پھر چور ہو تو یوں ہوں
طالب کی دلدہی بھی مطلوب پر ہو لازم
شہرِ طلب کا کوئی دستور ہو تو یوں ہوں
ہو خود سپردگی میں غمزہ بھی آپ جیسا
جنت میں ملنے والی جو حور ہو تو یوں ہوں
ہیجان سوچ میں ہو اور لب سِلے ہوئے ہوں
کوئی نہ اس جہاں میں مجبور ہو تو یوں ہوں
رسوائیوں کو پانی شہرت سمجھنے والے
کوئی بھی توبہ توبہ مشہور ہو تو یوں ہوں

مرتضیٰ برلاس

No comments:

Post a Comment