چاہت ہو کہ نفرت بھرپور ہو تو یوں ہو
نزدیک تھے تو یوں تھے، اب دور ہو تو یوں ہوں
آئے ترنگ میں اور خود کو نثار کر دے
جانِ حزیں کسی دن مسرور ہو تو یوں ہوں
ہو پا برہنہ جب وہ، تلووں کے نیچے مچلے
دل کرچیوں کی صورت پھر چور ہو تو یوں ہوں
طالب کی دلدہی بھی مطلوب پر ہو لازم
شہرِ طلب کا کوئی دستور ہو تو یوں ہوں
ہو خود سپردگی میں غمزہ بھی آپ جیسا
جنت میں ملنے والی جو حور ہو تو یوں ہوں
ہیجان سوچ میں ہو اور لب سِلے ہوئے ہوں
کوئی نہ اس جہاں میں مجبور ہو تو یوں ہوں
رسوائیوں کو پانی شہرت سمجھنے والے
کوئی بھی توبہ توبہ مشہور ہو تو یوں ہوں
نزدیک تھے تو یوں تھے، اب دور ہو تو یوں ہوں
آئے ترنگ میں اور خود کو نثار کر دے
جانِ حزیں کسی دن مسرور ہو تو یوں ہوں
ہو پا برہنہ جب وہ، تلووں کے نیچے مچلے
دل کرچیوں کی صورت پھر چور ہو تو یوں ہوں
طالب کی دلدہی بھی مطلوب پر ہو لازم
شہرِ طلب کا کوئی دستور ہو تو یوں ہوں
ہو خود سپردگی میں غمزہ بھی آپ جیسا
جنت میں ملنے والی جو حور ہو تو یوں ہوں
ہیجان سوچ میں ہو اور لب سِلے ہوئے ہوں
کوئی نہ اس جہاں میں مجبور ہو تو یوں ہوں
رسوائیوں کو پانی شہرت سمجھنے والے
کوئی بھی توبہ توبہ مشہور ہو تو یوں ہوں
مرتضیٰ برلاس
No comments:
Post a Comment