صفحات

Sunday, 15 November 2015

نام بھی اچھا سا تھا چہرہ بھی تھا مہتاب سا

نام بھی اچھا سا تھا، چہرہ بھی تھا مہتاب سا
ہاں ہمیں کچھ یاد پڑتا ہے، مگر اک خواب سا
یہ مِرے سینے میں دل رکھا ہے یا کوئی چکور
چاندنی راتوں میں کیوں رہتا ہوں میں بیتاب سا
ہو گیا کس ذکر سے یہ مرتعش سارا وجود
تارِ سازِ دل پہ آخر کیا لگا مضراب سا
کچھ کتابیں اور قلم، کاغذ کے کچھ پرزوں پہ شعر
میرے گھر میں ہے یہی بس قیمتی اسباب سا
اس طرح کے کچھ حواری ساتھ عیسیٰ کے بھی تھے
جس طرح ہے گِرد میرے، حلقۂ احباب سا
پاؤں رکھتے ہی بہا کر لے گیا منجدھار میں
دور سے لگتا تھا جو دریا ہمیں پایاب سا
آسماں پر آنکھ سورج کی نہ بجھ جائے کہیں
ہے زمیں پر روشنی کا اس قدر سیلاب سا

مرتضیٰ برلاس

No comments:

Post a Comment