رنگ اردو دنیا بھر کے نامور کلاسیک اور نوجوان اردو شعراء کے شاہکار کلام پر مبنی بلاگ🌷Rung E Urdu a blog of worldsfamous poetry of past & present era
صفحات
▼
Sunday, 15 November 2015
ہم کیا کریں جو شاہ کی دہشت نہیں رہی
ہم کیا کریں جو شاہ کی دہشت نہیں رہی قابو میں اس کے اپنی ہی خلقت نہیں رہی اس علم نے تو اور بھی گمراہ کر دیا یہ شمع بھی اب اپنی ضرورت نہیں رہی
اتنی بھی بارشوں سے نہ کر رحم کی اپیل دیوار کیا رہے گی، اگر چھت نہیں رہی "بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے" اب عاشقی میں یہ بھی سہولت نہیں رہی بیدلؔ بغیر روئے نہ آئی تمہیں بھی نیند افسوس، تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
No comments:
Post a Comment