ہم کیا کریں جو شاہ کی دہشت نہیں رہی قابو میں اس کے اپنی ہی خلقت نہیں رہی اس علم نے تو اور بھی گمراہ کر دیا یہ شمع بھی اب اپنی ضرورت نہیں رہی
اتنی بھی بارشوں سے نہ کر رحم کی اپیل دیوار کیا رہے گی، اگر چھت نہیں رہی "بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے" اب عاشقی میں یہ بھی سہولت نہیں رہی بیدلؔ بغیر روئے نہ آئی تمہیں بھی نیند افسوس، تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
No comments:
Post a Comment