صفحات

Saturday, 14 November 2015

ہم کس شب سیاہ کے دامن میں بس گئے

ہم کس شبِ سیاہ کے دامن میں بس گئے
تیری ضیائے رخ کو دل و جاں ترس گئے
گیسو نگارِ زیست کے سمجھے تھے ہم جنہیں
وہ بن کے ناگ روحِ محبت کا ڈس گئے
مرجھا رہی ہیں اپنی امنگوں کی کونپلیں
بادل نجانے کون سی جانب برس گئے
شہرِ سخن میں چلنے لگی ہے وہ تیز لُو
نغمے کے پھول سے لب و عارض جھلس گئے
اجڑے تھے دل سو اجڑے ہوئے ہیں کچھ اور بھی
کیا کیا نہ ورنہ کوچہ و بازار بس گئے
آوارگانِ شوق نے منزل نہ کی قبول
گلشن کا در کھلا تو وہ سوئے قفس گئے
عنواں تھے جو خلوص و محبت کے ذکر کے
وہ نامۂ وفا سے بنامِ ہوس گئے
یہ اپنی زندگی کی کٹھن راہ الاماں
ہر ہر قدم پہ دل کا دھڑکنا کہ بس گئے
ہے ہجرِ دوستاں بھی کرمؔ دردِ جاں فزا
آنکھوں میں جو بسے تھے وہ اب دل میں بس گئے

کرم حیدری

No comments:

Post a Comment