صفحات

Saturday, 14 November 2015

عمر ہے جنگل ہم ہیں شکار اور ظالم وقت شکاری ہے

عمر ہے جنگل، ہم ہیں شکار اور ظالم وقت شکاری ہے
دن تو جوں توں کٹ ہی گیا ہے، رات کی منزل بھاری ہے
صدیوں سے ہر روز گرائے کیسے کیسے شاہ سوار
دنیا پھر ویسی کی ویسی الھڑ مست سواری ہے
اپنا آپ گنوا کر ہم نے پایا، تو اتنا ہی پایا
برسوں کی محنت کے مقابل لمحوں کی غفلت بھاری ہے
بانہوں میں کس بل بھی بہت تھا دل میں ہمت قوت بھی
ہم نے ہوش حواس گنوا کر بازی اپنی ہاری ہے
بیچ بھنور ہے من کی نیّا، بے پروا بیٹھے ہیں کھِوّیا
لہریں پاگل، دریا چھاگل، رین نپٹ اندھیاری ہے
خون سے خون کو دھونے والے نگر نگر ہیں میر وزیر
جن کو خون ہے پانی جیسا جان انہیں بھی پیاری ہے
عقل بغیر سیاست کرنا، عدل بغیر حکومت
کیا کیا اب اربابِ حرم کو دنیا میں دشواری ہے
کل تک جو بازاروں میں آوازیں لگائے پھرتے تھے
آج انہیں دیکھو تو ہر اک جیسے ہفت ہزاری ہے
اتنی کچھ گزران کے بعد اب جان عذاب میں آن پڑی
مر جانے کو جی نہیں مانے، جینے سے بے زاری ہے
خودبینی اب ایک وبا ہے کس کس کو سمجھائیں کرمؔ
اپنے آپ پہ عاشق ہونا سب سے بڑی بیماری ہے

کرم حیدری

No comments:

Post a Comment