صفحات

Monday, 16 November 2015

نزاع دیر و کعبہ بڑھ گئی ہے

نزاع دیر و کعبہ بڑھ گئی ہے
خدا کو مان اب پردہ اٹھا دے
اگر میں بھول سکتا ہوں تو ظالم
خدا کے واسطے مجھ کو بھلا دے
دعائیں دینے والے خیر تیری
مجھے آج ایک جھوٹی بددعا دے
کوئی برتاؤ تو کر بے مروت
مجھے جرمِ محبت کی سزا دے
مِری توبہ کی ساقی لاج رکھ کچھ
میں مانگوں یا نی مانگوں، تُو پلا دے
یہ تنہائی کا جلنا بھی عدمؔ کیا
چراغِ زیست کو ہنس کر بجھا دے

عبدالحمید عدم

No comments:

Post a Comment