صفحات

Monday, 16 November 2015

انکار میں اقرار کی بات آ ہی گئی ہے

انکار میں اقرار کی بات آ ہی گئی ہے
باتوں میں غمِ یار کی بات آ ہی گئی ہے
آیا ہے کبھی ذکر اگر دار و رسن کا
گیسو و قدِ یار کی بات آ ہی گئی ہے
آرائشِ عالم پہ کبھی بحث جو ٹھہری
اس گیسوئے خمدار کی بات آ ہی گئی ہے
جب سُرخئ گلشن کا کبھی ذکر ہوا ہے
تیرے لب و رخسار کی بات آ ہی گئی ہے
ڈھونڈا ہے اگر، زخمِ تمنا نے مداوا
اِک نرگسِ بیمار کی بات آ ہی گئی ہے
مل بیٹھے ہیں زِنداں میں اگر شام کو احباب
تیرے در و دیوار کی بات آ ہی گئی ہے
بے مہرئ احباب کا شکوہ جو کیا ہے
دلدارئ اغیار کی بات آ ہی گئی ہے
چھیڑا ہے کوئی تلخ فسانہ جو کسی نے
شیرینئ گفتار کی بات آ ہی گئی ہے
 
مظہر امام

No comments:

Post a Comment