صفحات

Monday, 14 December 2015

ہائے میں نے توبہ کی تو بھی کس زمانے میں

ہائے میں نے توبہ کی تو بھی کس زمانے میں
چار دن ہی باقی تھے جب بہار آنے میں
آج ان کی محفل میں ذکر تھا وفاؤں کا
ہم ہی باوفا نکلے بے وفا زمانے میں
مسجدِ شکستہ تو چار دن میں بن جائے
عمر بِیت جاتی ہے دل کو دل بنانے میں
اب نہ شرابی ہیں اب نہ وہ شرابیں ہیں
لوگ خون پیتے ہیں اب شراب خانے میں
صرف ایک بار اس نے دل کا حال پوچھا تھا
عمر کٹ گئی اپنی حالِ دل سنانے میں

راز الہ آبادی

No comments:

Post a Comment