یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں
یہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
یہی بہت ہے کہ تم دیکھتے ہو ساحل سے
سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں
یہ فکر ہے کہیں تم بھی نہ ساتھ چھوڑ چلو
تمہیں نے آئینۂ دل میرا بنایا تھا
تمہیں نے توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں
کسے مجال کہے کوئی مجھ کو دیوانہ
اگر یہ تم نے کہا ہے تو کوئی بات نہیں
راز الہ آبادی
No comments:
Post a Comment