صفحات

Monday, 14 December 2015

یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں

یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیں
یہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیں
یہی بہت ہے کہ تم دیکھتے ہو ساحل سے
سفینہ ڈوب رہا ہے تو کوئی بات نہیں
یہ فکر ہے کہیں تم بھی نہ ساتھ چھوڑ چلو
جہان چھوڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں
تمہیں نے آئینۂ دل میرا بنایا تھا
تمہیں نے توڑ دیا ہے تو کوئی بات نہیں
کسے مجال کہے کوئی مجھ کو دیوانہ
اگر یہ تم نے کہا ہے تو کوئی بات نہیں

راز الہ آبادی

No comments:

Post a Comment