صفحات

Monday, 14 December 2015

دل دکھانا چھوڑئیے اور دلربا بن جائیے

دل دکھانا چھوڑئیے اور دلربا بن جائیے
آپ پتھر کیوں بنے ہیں، آئینہ بن جائیے
پیاس دھرتی کی بجھے خود سے تعلق بھی رہے
جب بلندی پر پہنچئے تو گھٹا بن جائیے
بادشاہی چاہئے، قربِ الٰہی چاہئے
دل میں رہئے اور ہونٹوں کی دعا بن جائیے
پھول بھی کھلتے رہیں، غنچے گلے ملتے رہیں
باغِ ہستی کے لیے موجِ صبا بن جائیے
موسم اپنا پیرہن بدلے تو حیرت کس لیے
توڑئیے عہدِ وفا اور بے وفا بن جائیے

راز الہ آبادی

No comments:

Post a Comment