ہر خار ہمارا ہے، ہر پھول ہمارا ہے
ہم نے بھی لہو دے کے گلشن کو سنوارا ہے
سو ظلم کیے تم نے، اک آہ نہ کی ہم نے
وہ ظرف تمہارا تھا، یہ ظرف ہمارا ہے
ہم تشنہ لبی اپنی دنیا سے چھپا لیں گے
اب ان کا حسیں دامن قسمت میں نہیں شاید
آنسو بھی ہمارے ہیں، دامن بھی ہمارا ہے
راز الہ آبادی
No comments:
Post a Comment