صفحات

Monday, 14 December 2015

ہر خار ہمارا ہے ہر پھول ہمارا ہے

ہر خار ہمارا ہے، ہر پھول ہمارا ہے
ہم نے بھی لہو دے کے گلشن کو سنوارا ہے
سو ظلم کیے تم نے، اک آہ نہ کی ہم نے
وہ ظرف تمہارا تھا، یہ ظرف ہمارا ہے
ہم تشنہ لبی اپنی دنیا سے چھپا لیں گے
ساقی تیری رسوائی کب ہم کو گوارا ہے
اب ان کا حسیں دامن قسمت میں نہیں شاید
آنسو بھی ہمارے ہیں، دامن بھی ہمارا ہے

راز الہ آبادی

No comments:

Post a Comment