صفحات

Tuesday, 15 December 2015

تھک کے گر جائیں گے صحرا میں سفر چھوڑیں گے

تھک کے گر جائیں گے صحرا میں سفر چھوڑیں گے
قحط پڑتے ہی پرندے سبھی گھر چھوڑیں گے
تھک کے ڈوبے گا کہیں دن کا ستایا سورج
شام کو سائے اداسی میں شجر چھوڑیں گے
نسلِ آدمؑ سے بقا میں ہے وجودِ ہستی
ختم ہو جائے گی دنیا جو بشر چھوڑیں گے
اپنے الفاظ کی زد میں سے بچا رکھ مجھ کو
حادثے ہوں گے تو پھر دور اثر چھوڑیں گے
ترکِ دنیا کا یہ پردہ وہ فقیروں کے لباس
بھوک بڑھتے ہی یہ درویش نگر چھوڑیں گے
اس کو کھونا تو نہ آساں تھا زمانے میں عقیلؔ
چھوڑنا موت کے جیسا ہے مگر چھوڑیں گے

عقیل شاہ

No comments:

Post a Comment