ہے سمندر سامنے پیاسے بھی ہیں پانی بھی ہے
تشنگی کیسے بجھائیں، یہ پریشانی بھی ہے
ہم مسافر ہیں سلگتی دھوپ، جلتی راہ کے
وہ تمہارا راستہ ہے جس میں آسانی بھی ہے
میں تو دل سے اس کی دانائی کا قائل ہو گیا
رت جگے جو بانٹتا پھرتا ہے سارے شہر میں
وہ فصیلِ خواب میں برسوں سے زندانی بھی ہے
بے تحاشا وہ تو ملتا ہے محبت سے، مگر
کچھ پریشانی بھی ہے اور خندہ پیشانی بھی ہے
زندگی بھر ہم سرابوں کی طرف چلتے رہے
اب جہاں تھک کر گرے ہیں اس جگہ پانی بھی ہے
اپنا ہمسایہ ہے، لیکن فاصلہ برسوں کا ہے
ایسی قربت اتنی دوری جس میں حیرانی بھی ہے
رمزؔ تیری تیرہ بختی کی یہ شب کٹ جائے گی
رات کے دامن میں کوئی چیز نورانی بھی ہے
رمز عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment