صفحات

Monday, 14 December 2015

چاند انگڑائیاں لے رہا ہے چاندنی مسکرانے لگی ہے

چاند انگڑائیاں لے رہا ہے چاندنی مسکرانے لگی ہے
ایک بھولی ہوئی سی کہانی پھر مجھے یاد آنے لگی ہے
کس نے بکھرا دئیے اپنے گیسو اب گھٹا اور چھانے لگی ہے
توبہ توبہ ارے میری توبہ، آج پھر ڈگمگانے لگی ہے
ان کے جاتے ہی یہ دن بھی دیکھے رات آنسو بہانے لگی ہے
چاند سے اب نکلتے ہیں شعلے، چاندنی دل جلانے لگی ہے
سامنے مسکراتی ہے منزل، پاؤں لیکن اٹھانا ہے مشکل
اے اجل تُو ہی دے دے سہارا، زندگی ڈگمگانے لگی ہے
اشک آنکھوں میں آئیں تو پی لے، دل جو روئے تو ہونٹوں کو سی لے
اے محبت تیرے آنسوؤں پہ اب ہنسی ان کو آنے لگی ہے

راز الہ آبادی

No comments:

Post a Comment