چاند انگڑائیاں لے رہا ہے چاندنی مسکرانے لگی ہے
ایک بھولی ہوئی سی کہانی پھر مجھے یاد آنے لگی ہے
کس نے بکھرا دئیے اپنے گیسو اب گھٹا اور چھانے لگی ہے
توبہ توبہ ارے میری توبہ، آج پھر ڈگمگانے لگی ہے
ان کے جاتے ہی یہ دن بھی دیکھے رات آنسو بہانے لگی ہے
سامنے مسکراتی ہے منزل، پاؤں لیکن اٹھانا ہے مشکل
اے اجل تُو ہی دے دے سہارا، زندگی ڈگمگانے لگی ہے
اشک آنکھوں میں آئیں تو پی لے، دل جو روئے تو ہونٹوں کو سی لے
اے محبت تیرے آنسوؤں پہ اب ہنسی ان کو آنے لگی ہے
راز الہ آبادی
No comments:
Post a Comment