Friday, 25 December 2015

گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو

 گئی وہ بات کہ ہو گفتگو تو کیونکر ہو

کہے سے کچھ نہ ہوا پھر کہو تو کیونکر ہو

ہمارے ذہن میں اس فکر کا ہے نام وصال

کہ گر نہ ہو تو کہاں جائیں ہو تو کیونکر ہو

ادب ہے اور یہی کشمکش تو کیا کیجے

حیا ہے اور یہی گومگو تو کیونکر ہو

تمہیں کہو کہ گزارا سنم پرستوں کا

بتوں کی ہو اگر ایسی ہی خو تو کیونکر ہو

الجھتے ہو تم اگر دیکھتے ہو آئینہ

جو تم سے شہر میں ہوں ایک دو تو کیونکر ہو

جسے نصیب ہو روزِ سیاہ میرا سا

وہ شخص دن نہ کہے رات کو تو کیونکر ہو

ہمیں پھر ان سے امید اور انہیں ہماری قدر

ہماری بات ہی پوچھیں نہ وو تو کیونکر ہو

غلط نہ تھا ہمیں خط پر گماں تسلّی کا

نہ مانے دیدہ دیدار جو تو کیونکر ہو

بتاؤ اس مژہ کو دیکھ کر کہ مجھ کو قرار

یہ نیش ہو رگِ جاں میں فرو تو کیونکر ہو

مجھے جنوں نہیں غالب ولے بہ قولِ حضور

فراقِ یار میں تسکین ہو تو کیونکر ہو​


مرزا غالب

No comments:

Post a Comment