Monday, 14 December 2015

لذت غم بڑھا دیجیے

لذتِ غم بڑھا دیجیے
آپ پھر مسکرا دیجیے
قیمتِ دل بتا دیجیے
خاک لے کر اڑا دیجیے
میرا دامن بہت صاف ہے
کوئی تہمت لگا دیجیے
آپ اندھیرے میں کب تک رہیں
پھر کوئی گھر جلا دیجیے
ایک سمندر نے آواز دی
مجھ کو پانی پلا دیجیے

راز الہ آبادی

No comments:

Post a Comment