میں پیتا ہی رہا ساقی! تمنا دل سے کب نکلی
صراحی سے جو نکلی مے تو وہ بھی تشنہ لب نکلی
ہوئی آنکھوں کے صدقے اور لبِ لعلیں کو چوم آئی
نظر معصوم تھی رخ تک جو پہنچی، بے ادب نکلی
جناب شیخ! تم کیا ہو، فرشتے بھی بہک جائیں
حسینوں کی پشیمانی کبھی دیکھی نہ جائے گی
تیری یہ بے رخی ہی میرے جینے کا سبب نکلی
برہمن کی زباں پر ہے الف لیلہ کا افسانہ
بتوں کے دل میں بھی یارب تمنائے عرب نکلی
خدا رکھے بہک کر مے کدے کی سمت آ پہنچی
قیامت چوم کر تیری حسیں آنکھوں کو جب نکلی
نہ کرنا وصل کی خواہش نہ رسوائے جہاں ہونا
محبت رمزؔ کی شرمندۂ رسمِ طلب نکلی
رمز عظیم آبادی
No comments:
Post a Comment