صفحات

Tuesday, 15 December 2015

دیار دل میں کہیں دوست کا پتا نہ ملا

دیارِ دل میں کہیں دوست کا پتا نہ ملا
وہ بدنصیب ہوں کعبے میں بھی خدا نہ ملا
شریکِ قید تھے جذباتِ دل، مگر بے کار
قفس تھا ایسا کہ نالوں کو راستا نہ ملا
متاعِِ عشق کا ہو دل کے بعد کیا سودا
کہ گمشدہ کا بھروسا نہیں، ملا نہ ملا
یہ کس نے غمکدۂ دنیا کا نام رکھا ہے
ہمیں تو کوئی یہاں درد آشنا نہ ملا
میں امتحاں کدۂ دہر سے اٹھا جب سے
خبر نہیں مگر اتنی کہ دوسرا نہ ملا

ثاقب لکھنوی

No comments:

Post a Comment