صفحات

Tuesday, 15 December 2015

آگ یہ کیسی لگی ہے سینہ دلگیر میں

آگ یہ کیسی لگی ہے سینۂ دلگیر میں
چھالے آ جاتے ہیں نظر آئینۂ تقدیر میں
ظالم  و مظلوم ان کے زورِ بازو پر نثار
چھوڑتے ہیں دل پہ چٹکی لے کے پائے تیر میں
نامہ لکھتے وقت کیا جانے قلم کیونکر چلا
اضطرابِ دل نظر آنے لگا تحریر میں
نالے کرتا جا کے، زورِ ناتوانی ہے بہت
جھک چلا ہے چرخ گر جائے گا دو اک تیر میں
پیشِ عاقل بولتا ہے عالمِ نقش و نگار
کہہ گئی سب کچھ خموشی پردۂ تصویر میں

ثاقب لکھنوی

No comments:

Post a Comment