صفحات

Tuesday, 15 December 2015

مجھ کو یقین وعدہ فردا ضرور تھا

مجھ کو یقینِ وعدۂ فردا ضرور تھا
مشکل یہ آ پڑی تھی کہ دل ناصبور تھا
گلشن بہار پر تھا، نشیمن بنا لیا
میں کیوں ہوا اسیر مِرا کیا قصور تھا
پیدا ہوا ہے جو مِری ہستی سے انقلاب
دل کا کِیا دھرا ہے مجھے کیا شعور تھا
گلچیں! برا کیا جو یہ تنکے جلا دئیے
تھا آشیاں مگر تِرے پھولوں سے دور تھا

ثاقب لکھنوی

No comments:

Post a Comment