مجھ کو یقینِ وعدۂ فردا ضرور تھا
مشکل یہ آ پڑی تھی کہ دل ناصبور تھا
گلشن بہار پر تھا، نشیمن بنا لیا
میں کیوں ہوا اسیر مِرا کیا قصور تھا
پیدا ہوا ہے جو مِری ہستی سے انقلاب
گلچیں! برا کیا جو یہ تنکے جلا دئیے
تھا آشیاں مگر تِرے پھولوں سے دور تھا
ثاقب لکھنوی
No comments:
Post a Comment