ان سے ملا کے ہاتھ کیوں اِترا رہا ہوں میں
لگتا ہے جیسے آسماں پہ چھا رہا ہوں میں
لکھے نہیں ہیں جو ابھی فطرت کے ہاتھ نے
کچھ ایسے تازہ نغمے ابھی گا رہا ہوں میں
بچھڑے تھے قافلے سے کبھی جو بھی راہرو
میری نوائے تازہ سے حیرت میں ہے جہاں
جلوے وہ حرف و صوت کے دکھلا رہا ہوں میں
میں آفتابِ عشق ہوں میرا ہےسب جہاں
مہر و وفا کی روشنی پھیلا رہا ہوں میں
جس کو بھی شوقِ دید ہو آئے وہ شوق سے
پھر ساتھ اپنے خواجہؔ جی کو لا رہا ہوں میں
خواجہ اشرف
کے اشرف
No comments:
Post a Comment