صفحات

Saturday, 2 January 2016

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ

گھر ہے وحشت خیز اور بستی اجاڑ
ہو گئی اک اک گھڑی تجھ بِن پہاڑ
ہے پہنچنا اپنا چوٹی تک محال
اے طلب نکلا بہت اونچا پہاڑ
کھیلنا آتا ہے ہم کو بھی شکار
پر نہیں زاہد! کوئی ٹٹی کی آڑ
عید اور نو روز ہے سب دل کے ساتھ
دل نہیں حاضر تو دنیا ہے اجاڑ
تم نے حالیؔ کھول کر ناحق زبان
کر لیا ساری خدائی کا بگاڑ

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment