ہم اپنے آپ میں رہتے ہیں دم میں دم جیسے
ہمارے ساتھ ہوں دو چار بھی جو ہم جیسے
کسے دماغ جنوں کی مزاج پرسی کا
سنے گا کون گزرتی ہے شامِ غم جیسے
بھلا ہُوا کہ تِرا نقش پا نظر آیا
مِری مثال تو ایسی ہے جیسے خواب کوئی
مِرا وجود سمجھ لیجیے عدم جیسے
اب آپ خود ہی بتائیں یہ زندگی کیا ہے
کرم بھی اس نے کیے ہیں مگر سِتم جیسے
اجمل سراج
No comments:
Post a Comment