یہ خطۂ آراستہ، یہ شہرِ جہاں تاب
آ جائے گا ایک روز یہ ساحل بھی تہہِ آب
تصویرِ عمل، ذوقِ سفر، شوقِ فنا دیکھ
اک موج کہ ساحل کی طلب میں ہوئی سیماب
شاید یہ کوئی ریزۂ دل ہے کہ سرِ چشم
اک عمر ہوئی پستئ ظلمت میں پڑا ہوں
دیکھو مجھے میں ہوں وہی ہم قریۂ مہتاب
دنیا تو نہیں ہے مگر آغوشِ طلب میں
اک بھولی ہوئی شکل ہے کچھ ٹوٹے ہوئے خواب
جز دیدۂ دل کون تجھے دیکھ سکے ہے
محروم تِری دید سے ہے منبر و محراب
اے ناظرِ ہر ذرّہ تِری ایک نظر کو
آنکھیں ہیں سو بے نور ہیں، دل ہے سو ہے بیتاب
اجمل سراج
No comments:
Post a Comment