صفحات

Friday, 1 January 2016

وقت کے موجود سے باہر نکلنے کی سزا

وقت کے موجود سے باہر نکلنے کی سزا
عمر بھر سہتے رہو گے ہاتھ ملنے کی سزا
جزیۂ انکار دینا تو پڑے گا دہر کو
رات دن اب کاٹیے کمرے میں چلنے کی سزا
تم اسے چاہو نہ چاہو، واقعہ ایسا ہی ہے
جو ابھرتا ہے اسے ملتی ہے ڈھلنے کی سزا
غم زیادہ پی لیا، اب مستقل پیتے رہو
سخت تر ہے اس کے نشے میں سنبھلنے کی سزا
میں نے بھی پائی ہے اپنی ضد میں سورج کی طرح
ایک عالم گیر تنہائی میں جلنے کی سزا
تم زیاں اندیش تو ہو لو، ملے گی پھر تمہیں
شہرِ اشیا کے کھلونوں سے بہلنے کی سزا

آفتاب اقبال شمیم

No comments:

Post a Comment