صفحات

Friday, 1 January 2016

ہے یہ تکیہ تیری عطاؤں پر

ہے یہ تکیہ تیری عطاؤں پر
وہی اصرار ہے خطاؤں پر
رہروو با خبر رہو کہ گمان
رہزنی کا ہے رہنماؤں پر
اس کے کوچہ میں ہیں وہ بے پر و بال
اڑتے پھرتے ہیں جو ہواؤں پر
شہسواروں پہ بند ہے جو راہ
وقف ہے یاں برہنہ پاؤں پر
نہیں منعم کو اس کی بوند نصیب
مینہ برستا ہے جو گداؤں پر
نہیں محدود بخششیں تیری
زاہدوں پر نہ پارساؤں پر
حق سے درخواست عفو کی حالی
کیجیے کس منہ سے ان خطاؤں پر

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment