صفحات

Friday, 1 January 2016

رنج اور رنج بھی تنہائی کا

رنج اور رنج بھی تنہائی کا
وقت پہنچا مِری رسوائی کا
تم نے کیوں وصل میں پہلو بدلا
کس کو دعویٰ ہے شکیبائی کا
اس سے ناداں ہی بن کر ملیے
کچھ اجارا نہیں دانائی کا
عمر شاید نہ کرے آج وفا
کاٹنا ہے شبِ تنہائی کا
سات پردوں میں نہیں ٹھہرتی آنکھ
حوصلہ کیا ہے تماشائی کا
درمیاں پائے نظر ہے جب تک
ہم کو دعویٰ نہیں بینائی کا
ہوں گے حالیؔ سے بہت آوارہ
گھر ابھی دور ہے رسوائی کا

الطاف حسین حالی

No comments:

Post a Comment