واعظِ شہر خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
یہی بندے کی خطا ہے مجھے معلوم نہ تھا
غمِ دوراں کا مداوا نہ ہُوا، پر نہ ہُوا
ہاتھ میں کس کے شفا ہے مجھے معلوم نہ تھا
نغمۂ مے بھی نہ ہو بانگِ بط مے بھی نہ ہو
اپنے ہی ساز کی آوز پہ حیراں تھا میں
زخمۂ ساز نیا ہے مجھے معلوم نہ تھا
جس کی ایما پہ کیا شیخ نے بندوں کو ہلاک
وہی بندوں کا خدا ہے مجھے معلوم نہ تھا
شب ہجراں کی درازی سے پریشاں تھا میں
یہ تیری زلفِ رسا ہے مجھے معلوم نہ تھا
وہ مجھے مشورۂ ترکِ وفا دیتے تھے
یہ محبت کی ادا ہے مجھے معلوم نہ تھا
چہرہ کھولے نظر آتی تھی عروسِ گلنار
منہ پہ شبنم کی ردا ہے مجھے معلوم نہ تھا
کفر و ایماں کی حدیں کس نے تعین کی تھیں
اس پہ ہنگامہ بپا ہے مجھے معلوم نہ تھا
یہی مارِ دو زباں میرا لہو چاٹ گیا
رہنما ایک بلا ہے مجھے معلوم نہ تھا
عجب انداز سے تھا کوئی غزلخواں کل رات
عابدِؔ شعلہ نوا ہے مجھے معلوم نہ تھا
عابد علی عابد
No comments:
Post a Comment