چین پڑتا ہے دل کو آج نہ کل
وہی الجھن گھڑی گھڑی پَل پَل
میرا جینا ہے سیج کانٹوں کی
ان کے مرنے کا نام تاج محل
یا کبھی عاشقی کا کھیل نہ کھیل
نہ ہوا رفع میرے دل کا غبار
کیسے کیسے برس گئے بادل
بِن پیے انکھڑیاں نشیلی ہیں
نین کالے ہیں تیرے بِن کاجل
دمِ رخصت وہ چپ رہے عابدؔ
آنکھ میں پھیلتا گیا کاجل
عابد علی عابد
No comments:
Post a Comment