صفحات

Monday, 4 January 2016

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں

دنیا سے وفا کر کے صلہ ڈھونڈ رہے ہیں
ہم لوگ بھی ناداں ہیں یہ کیا ڈھونڈ رہے ہیں
کچھ دیر ٹھہر جائیے اے بندۂ انصاف
ہم اپنے گناہوں میں خطا ڈھونڈ رہے ہیں
یہ بھی تو سزا ہے کہ گرفتارِ وفا ہوں
کیوں لوگ محبت کی سزا ڈھونڈ رہے ہیں
دنیا کی تمنا تھی کبھی ہم کو بھی فاکرؔ
اب زخمِ تمنا کی دوا ڈھونڈ رہے ہیں

سدرشن فاکر 

No comments:

Post a Comment