کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
مجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
میرے رکنے سے مِری سانسیں بھی رک جائیں گی
فاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
زہر پینے کی تو عادت تھی زمانے والو
چلتی راہوں میں یونہی آنکھ لگی ہے فاکرؔ
بھیڑ لوگوں کی ہٹا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
سدرشن فاکر
No comments:
Post a Comment