صفحات

Monday, 4 January 2016

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی

کسی رنجش کو ہوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
مجھ کو احساس دلا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
میرے رکنے سے مِری سانسیں بھی رک جائیں گی
فاصلے اور بڑھا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
زہر پینے کی تو عادت تھی زمانے والو 
اب کوئی اور دوا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی
چلتی راہوں میں یونہی آنکھ لگی ہے فاکرؔ
بھیڑ لوگوں کی ہٹا دو کہ میں زندہ ہوں ابھی​

سدرشن فاکر 

No comments:

Post a Comment