مِری زباں سے مِری داستاں سنو تو سہی
یقیں کرو نہ کرو مہرباں، سنو تو سہی
چلو یہ مان لیا مجرمِ محبت ہیں
ہمارے جرم کا ہم سے بیاں سنو تو سہی
بنو گے دوست مِرے تم بھی دشمنو اک دِن
لبوں کو سی کے جو بیٹھے ہیں بزمِ دنیا میں
کبھی تم ان کی بھی خاموشیاں سنو تو سہی
کہو گے وقت کو مجرم بھری بہاروں میں
جلا تھا کیسے مِرا آشیاں سنو تو سہی
سدرشن فاکر
No comments:
Post a Comment