صفحات

Saturday, 2 January 2016

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو

میرے دکھ کی کوئی دوا نہ کرو 
مجھ کو مجھ سے ابھی جدا نہ کرو
ناخدا کو خدا کہا ہے تو پھر 
ڈوب جاؤ، خدا خدا نہ کرو
یہ سکھایا ہے دوستی نے ہمیں 
دوست بن کر کبھی وفا نہ کرو
عشق ہے عشق، یہ مذاق نہیں 
چند لمحوں میں فیصلہ نہ کرو
عاشقی ہو کہ بندگی، فاکرؔ 
بے دلی سے تو ابتدا نہ کرو

سدرشن فاکر

No comments:

Post a Comment