صفحات

Saturday, 2 January 2016

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح

فلسفے عشق میں پیش آئے سوالوں کی طرح 
ہم پریشاں ہی رہے اپنے خیالوں کی طرح
شیشہ گر بیٹھے رہے ذکرِ مسیحا لے کر 
اور ہم ٹوٹ گئے کانچ کے پیالوں کی طرح
جب بھی انجامِ محبت نے پکارا خود کو 
وقت نے پیش کیا ہم کو مثالوں کی طرح
ذکر جب ہو گا محبت میں تباہی کا کہیں 
یاد ہم آئیں گے دنیا کو حوالوں کی طرح

سدرشن فاکر 

No comments:

Post a Comment