جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا
راہِ خدا میں اس نے گویا جبل کو توڑا
اپنا دلِ شگفتہ تالاب کا کنول تھا
افسوس تُو نے ظالم! ایسے کنول کو توڑا
تھا ساعتِ فرنگی، دل چپ جو ہو رہا ہے
دارا و جَم نے تجھ سے کیا کیا شکست پائی
اے چرخ! تُو نے کس کس اہلِ دول کو توڑا
لینی ہے جنسِ دل تُو ظالم! تو آج لے چُک
پڑ جائے گا وگرنہ پھر اس کا کل کو توڑا
احوالِ خوش انہوں کا انشاؔ میاں جنہوں نے
اس ذاتِ بحَت سے مل بندِ اجل کو توڑا
انشا اللہ خان انشا
No comments:
Post a Comment