صفحات

Monday, 4 January 2016

جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا

جس شخص نے کہ اپنے نخوت کے بل کو توڑا
راہِ خدا میں اس نے گویا جبل کو توڑا
اپنا دلِ شگفتہ تالاب کا کنول تھا
افسوس تُو نے ظالم! ایسے کنول کو توڑا
تھا ساعتِ فرنگی، دل چپ جو ہو رہا ہے
کیا جانیے کہ کس نے ہے اس کی کل کو توڑا
دارا و جَم نے تجھ سے کیا کیا شکست پائی
اے چرخ! تُو نے کس کس اہلِ دول کو توڑا
لینی ہے جنسِ دل تُو ظالم! تو آج لے چُک
پڑ جائے گا وگرنہ پھر اس کا کل کو توڑا
احوالِ خوش انہوں کا انشاؔ میاں جنہوں نے
اس ذاتِ بحَت سے مل بندِ اجل کو توڑا

انشا اللہ خان انشا

No comments:

Post a Comment