سما کے ابر میں برسات کی امنگ میں ہوں
ہوا میں جذب ہوں خوشبو کے انگ انگ میں ہوں
فضا میں تیر رہی ہوں صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں یہ کس ترنگ میں ہوں
دھنک اترتی نہیں میرے خون میں جب تک
بہار نے مِری آنکھوں پہ پھول باندھ دیئے
رہائی پاؤں تو کیسے حصارِ رنگ میں ہوں
کھلی فضا ہے، کھلا آسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا، ابھی سرنگ میں ہوں
ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر، پناہِ سنگ میں ہوں
صدف میں اتروں تو پھر گہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے حلقۂ نہنگ میں ہوں
پروین شاکر
No comments:
Post a Comment