Sunday, 3 January 2016

سما کے ابر میں برسات کی امنگ میں ہوں

سما کے ابر میں برسات کی امنگ میں ہوں
ہوا میں جذب ہوں خوشبو کے انگ انگ میں ہوں
فضا میں تیر رہی ہوں صدا کے رنگ میں ہوں
لہو سے پوچھ رہی ہوں یہ کس ترنگ میں ہوں
دھنک اترتی نہیں میرے خون میں جب تک
میں اپنے جسم کی نیلی رگوں سے جنگ میں ہوں
بہار نے مِری آنکھوں پہ پھول باندھ دیئے
رہائی پاؤں تو کیسے حصارِ رنگ میں ہوں
کھلی فضا ہے، کھلا آسماں بھی سامنے ہے
مگر یہ ڈر نہیں جاتا، ابھی سرنگ میں ہوں
ہوا گزیدہ بنفشے کے پھول کی مانند
پناہِ رنگ سے بچ کر، پناہِ سنگ میں ہوں
صدف میں اتروں تو پھر گہر بھی بن جاؤں
صدف سے پہلے حلقۂ نہنگ میں ہوں

پروین شاکر

No comments:

Post a Comment